2391 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ مِهْرَانَ السَّوَّاقُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مَرْوَانَ الْخَلاَّلُ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَيُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- .وَالْعَرْزَمِىُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ (وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السَّبِيلُ قَالَ « زَادٌ وَرَاحِلَةٌ ».
2391 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت حسن بصری (رح) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے ‘ جبکہ ایک سند کے ہمراہ عمروبن شعیب کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے (کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے )
” اور اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں پر لازم ہے ‘ وہ بیت اللہ کا حج کریں ‘ جو شخص اس تک پہنچنے کی سبیل رکھتاہو “۔ لوگوں نے عرض کی یارسول اللہ ! سبیل سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا زاد سفر اور سواری (میسر ہونا) ۔