2395 - وَرَوَاهُ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عَلِىٍّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ يَعْنِى ( مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً) قَالَ « أَنْ تَجِدَ ظَهْرَ بَعِيرٍ ». حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سِيمَا حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ التِّرْمِذِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ الْفَدَكِىُّ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عَلِىٍّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- (وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً) قَالَ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَنْ تَجِدَ ظَهْرَ بَعِيرٍ ».
2395 حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کیا گیا (یعنی ارشاد باری تعالیٰ ہے )” جو اس تک پہنچنے کی سبیل رکھتاہو “۔ اس سے مراد کیا ہے ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ کہ تمہیں اونٹ کی پشت میسرہو (یعنی سواری تمہارے پاس ہے) ۔ ایک سند کے مطابق حضرت علی (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا لازم ہے جو شخص اس تک پہنچنے کی سبیل رکھتاہو “۔ حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا (اس سے مراد یہ ہے ) تم اونٹ کی پشت (یعنی سواری کو پاؤ) ۔