242 - حَدَّثَنَا ابْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ الْجَعْدِ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ قُلْتُ لأَبِى عُبَيْدَةَ حَضَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ لاَ- قُرِئَ عَلَى أَبِى الْقَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّىُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِى هَاشِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِىِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِى رَافِعٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ « أَمَعَكَ مَاءٌ » . قَالَ لاَ. قَالَ « أَمَعَكَ نَبِيذٌ ». أَحْسَبُهُ قَالَ نَعَمْ فَتَوَضَّأَ بِهِ. لاَ يَثْبُتُ مِنْ وَجْهَيْنِ وَنُكَتُهُ ذَكَرْتُهَا فِيهِ.
عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابوعبیدہ سے دریافت کیا : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) جنات سے ملاقات کی رات موجود تھے ؟ تو انھوں نے جواب دیا : نہیں !
ایک اور روایت میں یہ بات منقول ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : جنات سے ملاقات کی رات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ تو انھوں نے عرض کی : نہیں ! آپ نے پھر دریافت کیا : کیا تمہارے پاس نبیذ ہے۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے، روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نبیذ کے ذریعے وضو کرلیا۔ امام دار قطنی (رح) بیان کرتے ہیں : یہ روایت دو حوالوں سے ثابت نہیں ہے، اس کو میں پہلے ذکر کرچکا ہوں۔