hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 2442

.

سنن الدارقطني

2442
Sunan Al Daraqutni
2442 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِىُّ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَوْمَسِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَيْتَنِى أَرَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ فَبَيْنَا نَحْنُ بِالْجِعْرَانَةِ وَالنَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فِى قُبَّةٍ فَأَتَاهُ الْوَحْىُ فَأَشَارَ إِلَىَّ عُمَرُ أَنْ تَعَالَ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِىَ الْقُبَّةَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ قَدْ أَحْرَمَ فِى جُبَّتِهِ بِعُمْرَةٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِى رَجُلٍ أَحْرَمَ فِى جُبَّةٍ إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ فَجَعَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَغِطُّ كَذَلِكَ فَسُرِّىَ عَنْهُ فَقَالَ « أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِى سَأَلَنِى آنِفًا ». فَأُتِىَ بِالرَّجُلِ فَقَالَ « أَمَّا الْجُبَّةُ فَاخْلَعْهَا وَأَمَّا الطِّيبُ فَاغْسِلْهُ ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا » . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا قَالَ « ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا ». غَيْرَ نُوحِ بْنِ حَبِيبٍ وَلاَ أَحْسَبُهُ مَحْفُوظًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
2442 صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میری یہ خواہش تھی کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسی حالت میں دیکھوں جب آپ پر وحی نازل ہورہی ہو ‘ ایک مرتبہ جب ہم ” جعرانہ “ میں موجود تھے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی وہاں موجود تھے ‘ آپ ایک خیمے میں تھے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوناشروع ہوئی ‘ تو حضرت عمر (رض) نے مجھے اشارہ کیا تم آگے آجاؤ ‘ میں نے اپنا سر اس خیمے میں داخل کیا ‘ ایک شخص آیا ‘ جس نے جبہ پہن کر عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اور اس نے خوشبو بھی لگائی ہوئی تھی ‘ اس نے عرض کی یارسول اللہ ! آپ ایسے شخص کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں جس نے حیے میں حرام کی نیت کرلی ہو ‘ اسی دوران نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہونے لگی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خراٹے لینا شروع کیا ‘ اس کے بعد آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی ‘ تو آپ نے دریافت کیا وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے سوال کیا تھا ؟ اس شخص کو لایا گیا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جہاں تک حیے کا تعلق ہے تو اسے اتاردو اور جہاں تک خوشبوکاتعلق ہے تو اسے دھولوا ورپھرنئے سرے سے احرام باندھو۔
ابوعبدالرحمن (امام نسائی) نے یہ بات بیان کی ہے میرے علم کے مطابق کسی بھی شخص نے یہ بات نقل نہیں کی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو دوبارہ احرام باندھنے کی ہدایت کی ‘ صرف نوح بن حبیب نامی راوی نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے اور میں یہ سمجھتاہوں کہ یہ الفاظ نہیں ہیں ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔