245 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ صَالِحٍ الْهَاشِمِىُّ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعِجْلِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ كُنْتُ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- لَيْلَةَ الْجِنِّ فَأَتَاهُمْ فَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى بَعْضِ اللَّيْلِ « أَمَعَكَ مَاءٌ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ». قُلْتُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ إِدَاوَةً فِيهَا نَبِيذٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ ». فَتَوَضَّأَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هَذَا يَضَعُ الأَحَادِيثَ عَلَى الثِّقَاتِ.
ابو وائل بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں : جنات سے ملاقات کی رات میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھا، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لے گئے ، آپ نے ان کے سامنے قرآن پڑھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے رات کے کسی حصے میں دریافت کیا : اے ابن مسعود ! تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کی : نہیں ! اللہ کی قسم ! یارسول اللہ ! میرے پاس برتن میں صرف نبیذ موجود ہے، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کھجور پاکیزہ ہوتی ہے اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے، پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ذریعے وضو کرلیا۔
حسین بن عبید اللہ نامی راوی ثقہ راویوں کے حوالے سے روایات ایجاد کرکے اپنی طرف سے بیان کردیتا تھا۔