248 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ قَالَ قُلْتُ لأَبِى الْعَالِيَةِ رَجُلٌ لَيْسَ عِنْدَهُ مَاءٌ وَعِنْدَهُ نَبِيذٌ أَيَغْتَسِلُ بِهِ مِنْ جَنَابَةٍ قَالَ لاَ فَذَكَرْتُ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَقَالَ أَنْبِذَتُكُمْ هَذِهِ الْخَبِيثَةُ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ زَبِيبٌ وَمَاءٌ .
ابوخلدہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابوالعالیہ سے دریافت کیا : ایک ایسا شخص جس کے پاس پانی موجود نہ ہو، اس کے پاس نبیذ موجود ہو، تو کیا وہ اس نبیذ کے ذریعے غسل جنابت کرسکتا ہے، تو ابوالعالیہ نے جواب دیا : نہیں ! تو میں نے ان کے سامنے جنات سے ملاقات والی حدیث کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا : تمہارے ہاں جو نبیذ بنائی جاتی ہے، یہ خبیث ہوتی ہے، وہ جو چیز تھی وہ کشمش اور پانی تھا۔