2483 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِىُّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْحَجُّ قَالَ « الْحَجُّ عَرَفَةُ الْحَجُّ عَرَفَةُ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فِى يَوْمِ النَّحْرِ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةٌ مَنْ تَعَجَّلَ فِى يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ ».
2483 حضرت عبدالرحمن بن یعمر دیلی بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس وقت عرفہ میں پڑاؤ کیا ہوا تھا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جد سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! حج کیا ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا حج عرفہ (میں وقوف کا نام ہے) جو شخص قربانی کے دن صبح صادق ہونے سے پہلے عرفہ پہنچ جائے ‘ اس کا حج پورا ہوگیا ‘ منی کے ایام تین ہیں لیکن جو شخص دو دن بعد جلدی چلا جائے تو اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا اور جو شخص بعد میں (یعنی تیسرے دن بھی) ٹھہرار ہے اسے بھی کوئی گناہ نہیں ہوگا۔