2531 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَمِنْ قَائِلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ « لاَ حَرَجَ إِلاَّ رَجُلٌ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَاكَ الَّذِى حَرِجَ وَهَلَكَ ». لَمْ يَقُلْ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ إِلاَّ جَرِيرٌ عَنِ الشَّيْبَانِىِّ.
2531 حضرت اسامہ بن شریک (رض) بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوا ‘ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ کوئی یہ کہہ رہا تھا یارسول اللہ ! میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کرلی ہے ‘ یا میں نے ایک چیز کو موخر کردیا ہے ‘ یا ایک رکن کو پہلے کو لیا ہے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہی فرما رہے تھے کوئی حرج نہیں ہے ‘ ماسوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی عزت کو نقصان پہنچائے اور وہ زیادتی کرنے والا ہو ‘ یہ شخص حرج کا شکار ہوجائے گا اور ہلاکت کا شکار ہوجائے گا۔ صرف جریرنامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کرلی۔