hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 2533

.

سنن الدارقطني

2533
Sunan Al Daraqutni
2533 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَبُو الأَزْهَرِ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِى عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْىَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ فَمَا سَمِعْتُهُ يَوْمَئِذٍ يُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ أَوْ يَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ الأُمُورِ بَعْضِهَا قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا إِلاَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « افْعَلْهُ وَلاَ حَرَجَ ».
2533 حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص (رض) بیان کرتے ہیں قربانی کے دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر ٹھہرگئے ‘ لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوالات کرنا شروع کیے ‘ ان میں سے کسی نے عرض کی یارسول اللہ ! مجھے یہ پتہ نہیں تھا ‘ قربانی سے پہلے کنکریاں مارنی ہیں ‘ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی قربانی کرلی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب کنکریاں مارلو کوئی حرج نہیں ہے ‘ دوسرے شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے پتہ نہیں تھا ‘ قربانی سرمنڈوانے سے پہلے ہوگی ‘ میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سرمنڈوالیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اب قربانی کرلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) اس دن میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوسنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس بھی کسی معاملے سے متعلق سوال کیا گیا ‘ جسے کوئی شخص بھول گیا تھا یاجس سے وہ واقف نہیں تھا ‘ یعنی اس نے کوئی کام کسی دوسرے کام سے پہلے کرلیا ‘ یا اس طرح کا کوئی عمل پہلے کرلیا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے یہی فرمایا تم اب کرلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔