2538 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ وَغَيْرُهُ هَؤُلاَءِ الثَّلاَثُ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- لِرَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِىَ قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ الْحَلْقُ مِنَ الرَّمْىِ وَالرَّمْىُ مِنَ الْحَلْقِ » وَرَجُلٌ جَاءَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ النَّحْرُ مِنَ الرَّمْىِ وَالرَّمْىُ مِنَ النَّحْرِ ». قَالَ وَرَجُلٌ جَاءَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ قَالَ « احْلِقْ وَلاَ حَرَجَ النَّحْرُ مِنَ الْحَلْقِ » . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ فِى أَثَرِ حَدِيثِ عَطَاءٍ. هَذَا حَدِيثُ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ مَا كُنْتُ أَحْسَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ حَرَجَ ». وَفِى هَذِهِ الثَّلاَثِ الْحَلْقُ قَبْلَ الرَّمْىِ.
2538 عطاء اور دیگرراویوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے یہ تین باتیں نقل کی ہیں ‘ ایسے شخص کے بارے میں جس نے کنکریاں مارنے سے پہلے سرمنڈوالیا تھا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے تم اب کنکریاں مارلو کوئی حرج نہیں ہے ‘ منڈوانا بھی رمی کا حصہ ہے اور رمی کرنا بھی سرمنڈوانے کی طرح ہے ایک اور شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب کنکریاں مارلو ‘ قربانی کرنا کنکریاں مارنے کا حصہ ہے اور کنکریاں مارنا قربانی کرنے کی طرح ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک اور شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی میں نے سرمنڈوانے سے پہلے قربانی کرلی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب سرمنڈوالو کوئی حرج نہیں ہے ‘ قربانی کرنا سرمنڈوانے کا حصہ ہے اور سرمنڈوانا قربانی کرنے کی طرح ہے۔
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم ان میں یہ الفاظ ہیں ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قربانی کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے “۔
اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ‘ جس میں یہ الفاظ ہیں ”(اس شخص نے عرض کی ) میں یہ سمجھا تھا ‘ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے (راوی نے یہ الفاظ تین کاموں کے بارے میں نقل کیے ہیں) “۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ” اس میں کوئی حرج نہیں ہے “۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) وہ تین کام ہیں ‘ یعنی کنکریاں مارنے سے پہلے سرمنڈوالینا ۔