2548 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنِى مَعْرُوفُ بْنُ مُشْكَانَ أَخْبَرَنِى مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ قَالَتْ أَخْبَرَنِى نِسْوَةٌ مِنْ بَنِى عَبْدِ الدَّارِ اللاَّتِى أَدْرَكْنَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قُلْنَ دَخَلْنَا دَارَ ابْنِ أَبِى حُسَيْنٍ فَاطَّلَعْنَا مِنْ بَابٍ مُقَطَّعٍ فَرَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَشْتَدُّ فِى الْمَسْعَى حَتَّى إِذَا بَلَغَ زُقَاقَ بَنِى فُلاَنٍ مَوْضِعًا قَدْ سَمَّاهُ مِنَ الْمَسْعَى اسْتَقْبَلَ النَّاسَ فَقَالَ « يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْعَوْا فَإِنَّ السَّعْىَ قَدْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ ».
2548 منصور بن عبدالرحمن اپنی والدہ صفیہ کا یہ بیان نقل کرتے ہی بنوعبدالدار سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین نے یہ بات بتائی ہے ‘ جنہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ نصیب ہوا ‘ انھوں نے بتایا ہم لوگ ! ابن ابی حصین کے گھر میں داخل ہوئے ہم نے دروازے میں سے جھانک کردیکھاتو ہم نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سعی کرنے کی جگہ پر دوڑ رہے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زقاق بنوفلاں تک پہنچے ‘ یہ ایک جگہ ہے جس کا نام سعی کرنے کی جگہ میں لیا جاتا ہے ‘ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا اے لوگو ! سعی کرو کیونکہ سعی کرنا تم پر لازم قراردیا گیا ہے۔