2605 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِىُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِى بَنِى عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ - وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ - إِنِّى أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ وَقَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْمُحْرِمُ لاَ يَنْكِحُ وَلاَ يَخْطُبُ وَلاَ يُنْكِحُ ».
2605 نبیہ بن واہب بیان کرتے ہیں عمربن عبیداللہ نے ابان بن عثمان کو پیغام بھیجا ‘ ابان ان دنوں امیرالحج تھے دونوں حضرات حالت احرام میں تھے (پیغام یہ بھیجا) میں طلحہ بن عمر کی شادی شیبہ بن جبیر کی صاحبزادی کے ساتھ کرنا چاہتا ہو میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس میں شریک ہوں ‘ توابان نے ان کی اس بات کو مسترد کردیا اور بولے میں نے حضرت عثمان غنی (رض) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے حالت احرام والاشخص نہ خود کا ح کر ہے نہ کسی کو نکاح کا پیغام بھیج سکتا ہے اور نہ ہی کسی کا نکاح کرواسکتا ہے۔