2643 - حَدَّثَنَا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزْدَادَ الْكَاتِبُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتْ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ آخِرِ يَوْمِ النَّحْرِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَمَكَثَ بِمِنًى لَيَالِىَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِى الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ ثُمَّ يَرْمِى الثَّالِثَةَ وَلاَ يَقِفُ عِنْدَهَا .
2643 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں قربانی کے آخری دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس تشریف لائے ‘ آپ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ واپس تشریف لے گئے اور ایام تشریق کی راتیں منی میں بسرکیں ‘ آپ سورج ڈھل جانے کے بعد جمرات کو کنکریاں مارا کرتے تھے ‘ آپ ہرجمرہ کو سات کنکریاں مارا کرتے تھے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے ‘ آپ نے پہلے جمرہ کے پاس بھی وقوف کیا تھا ‘ دوسرے جمرہ کے پاس بھی وقوف کیا تھا اور وہاں کھڑے ہو کرکافی دیر گریہ وزاری (کے ساتھ دعا) کرتے رہے تھے ‘ پھر تیسرے جمرہ کو کنکریاں مارنے کے وقت وہاں پہ وقوف نہیں کیا۔