2647 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِىُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِى تَلِى الْمَسْجِدَ - مَسْجِدَ مِنًى - يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ يَأْتِى الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِى الْوَادِى فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو ثُمَّ يَأْتِى الْجَمْرَةَ الَّتِى عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلاَ يَقِفُ عِنْدَهَا. قَالَ الزُّهْرِىُّ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
2647 زہری بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جمرہ کو کنکریاں ماریں جو مسجد منی کے قریب ہے تو آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ‘ ہر ایک کنکری پھینکتے ہوئے آپ نے تکبیر کہی ‘ پھر آپ سا جمرہ کے آگے آئے اور بیت اللہ کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوگئے ‘ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا مانگنا شروع کی ‘ آپ خاصی دیروہاں کھڑے رہے ‘ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسرے جمرہ کے پاس تشریف لائے اور اسے بھی سات کنکریاں ماریں ‘ ہر کنکری پھینکتے ہوئے آپ نے تکبیر کہی ‘ پھر آپ تھوڑاسا بائیں طرف ہٹ گئے ‘ جو وادی والاحصہ ہے ‘ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں بیت اللہ کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوگئے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا مانگنے لگے ‘ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیسرے جمرہ کے پاس تشریف لے گئے جو عقبہ کے پاس ہے ‘ آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ‘ ہر کنکری پھینکتے ہوئے آپ نے تکبیرکہی ‘ پھر آپ وہاں سے واپس تشریف لے آئے ‘ پھر آپ نے اس کے پاس وقوف نہیں کیا۔
زہری نے یہ بات بیان کی ہے میں نے سالم بن عبداللہ کو اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت نقل کرتے ہوئے سنا ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔