2668 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ فَقَالَ « يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ ». فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَجَعَلَ يُعْرِضُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ « لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا - ثُمَّ قَالَ - دَعُونِى مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَىْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ ».
2668 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض قرار دیا ہے تو ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی یارسول اللہ کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کوئی جواب نہیں دیا پھر ارشاد فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ لازم ہوجاتا اور اگر یہ لازم ہوجاتا تو تم ادا نہ کرسکتے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا ، جو چیز میں تمہارے سامنے بیان نہ کروں اسے ویسے ہی رہنے دو، تم سے پہلے لوگ سوال کرنے کی وجہ سے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوگئے ۔ جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہوسکے اسے بجالاؤ اور جب کسی چیز سے منع کردوں تو اس سے رک جاؤ۔