2672 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزَ الأَنْمَاطِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ فَقَالَ « لاَ بَلْ لِلأَبَدِ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِى الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ». كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
2672 ۔ حضرت سراقہ بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہ کیا عمرے کا حکم ہمارے اس سال کے لیے مخصوص ہے یاہمشہ کے لیے ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں ہمیشہ کے لیے ہے ، عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہوگیا ہے (یعنی ان دونوں کو ایک ساتھ کیا جاسکتا ہے ) ۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔