2699 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا أَبُو زِيَادٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى مُلَيْكَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ فَقَالَ شَرِبْتُ مِنْ زَمْزَمَ. فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ أَشَرِبْتَ مِنْهَا كَمَا يَنْبَغِى قَالَ وَكَيْفَ ذَاكَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا شَرِبْتَ مِنْهَا فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَتَنَفَّسْ ثَلاَثًا وَتَضَلَّعْ مِنْهَا فَإِذَا فَرَغْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « آيَةُ بَيْنِنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ أَنَّهُمْ لاَ يَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ ».
2699 ۔ عبداللہ بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اس سے دریافت کیا تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے جواب دیا میں آب زم زم پی کر آرہا ، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اس سے دریافت کیا کیا تم نے اسے اسی طرح پیا ہے جیسے پینا چاہیے تھا اس نے دریافت کیا اے حضرت ابن عباس وہ کیسے (پیاجاتا ہے ) تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا جب تم نے اسے پینا ہو تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور اللہ کا نام لو، اور پھر تین سانسوں میں پیو اور زیادہ مقدار میں پیو جب تم اسے پیغمبر لو اللہ کی حمد بیان کرو کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ہمارے اور منافقین کے درمیان بنیادی فرق ہے وہ (منافقین) زم زم زیادہ مقدار میں نہیں پیتے ۔