2702 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَلِىٍّ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ الْجَارُودِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ إِنْ شَرِبْتَهُ تَسْتَشْفِى بِهِ شَفَاكَ اللَّهُ وَإِنْ شَرِبْتَهُ لِشِبَعِكَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ بِهِ وَإِنْ شَرِبْتَهُ لِقَطْعِ ظَمَئِكَ قَطَعَهُ وَهِىَ هَزْمَةُ جِبْرِيلَ وَسُقْيَا اللَّهِ إِسْمَاعِيلَ ».
2702 ۔ مجاہد حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب آب زم زم کو پی لیا جائے تو اگر تم نے اسے اس لیے پی لیا ہوتا کہ تم اس کے ذریعے شفاء حاصل کرو تو اللہ تمہیں شفا نصیب کرے گا، اگر اسے اس لیے پیا ہوتا کہ تمہارا پیٹ بھرجائے تو اللہ تمہیں سیر کردے گا اور اگر اس لیے پیا ہوتا کہ پیاس ختم ہوجائے تو اللہ اسے بھی ختم کرے گا یہ جبرائیل کی ٹھوکر کا نتیجہ ہے اور اس کے ذریعے اللہ نے حضرت اسماعیل کو سیراب کیا تھا۔