271 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ النَّقَّاشُ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمِّ بْنِ يُوسُفَ التِّرْمِذِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرٍ الْبَلْخِىُّ حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ يُوسُفَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ « مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِى لاَ يَتِمُّ الْوُضُوءُ إِلاَّ بِهِمَا ». تَفَرَّدَ بِهِ عِصَامٌ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَوَهِمَ فِيهِ وَالصَّوَابُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى مُرْسَلاً عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ ». وَأَحْسَبُ عِصَامًا حَدَّثَ بِهِ مِنْ حِفْظِهِ فَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ وَاشْتَبَهَ بِإِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ». وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” یہ وضو کا ایک ایسا حصہ ہے، جس کے بغیر وضو مکمل نہیں ہوتا “۔
اس روایت کو نقل کرنے میں عصام نامی راوی منفرد ہیں اور انھیں اس بارے میں وہم ہوا ہے۔ صحیح روایت وہ ہے، جسے ابن جریج نامی راوی نے سلمان بن موسیٰ کے حوالے سے ” مرسل “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” جو شخص وضو کرے اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے “۔
امام دار قطنی (رح) بیان کرتے ہیں : میرا یہ خیال ہے ، عصام نامی راوی نے اس حدیث کو اپنے حافظے کے حوالے سے بیان کیا اور یہ بات ان پر مختلط ہوگئی، اور ان پر اس روایت کی سند مشتبہ ہوگئی جو سیدہ عائشہ (رض) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے طور پر منقول ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جس عورت کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر کیا گیا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہوگا “۔