2752 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنِ ابْنٍ لأَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ الْجِمَارُ الَّتِى يُرْمَى بِهَا كُلَّ عَامٍ فَنَحْتَسِبُ أَنَّهَا تَنْقُصُ فَقَالَ « إِنَّهُ مَا يُقْبَلُ مِنْهَا رُفِعَ وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَرَأَيْتَهَا أَمْثَالَ الْجِبَالِ ».
2752 ۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں ہم نے عرض کی یارسول اللہ یہ جو جمرات کو ہر سال اتنی کنکریاں ماری جاتی ہیں ہم تو یہ سمجھتے ہیں یہ ختم ہوجائیں گی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ، ان میں سے جو قبول ہوجاتی ہیں انھیں اٹھالیاجاتا ہے اگر ایسانہ ہو تو تمہیں یہاں پہاڑوں کی طرح (کنکریوں کے ڈھیر) نظر آئیں۔