2756 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِىُّ قَالَ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ « أَرْبَعَةٌ لاَ أُؤَمِّنُهُمْ فِى حِلٍّ وَلاَ حَرَمٍ الْحُوَيْرِثُ بْنُ نُقَيْدٍ وَمِقْيَسٌ وَهِلاَلُ بْنُ خَطَلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى سَرْحٍ ». فَأَمَّا الْحُوَيْرِثُ فَقَتَلَهُ عَلِىٌّ وَأَمَّا مِقْيَسٌ فَقَتَلَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ لَحَا وَأَمَّا هِلاَلُ بْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمِقْيَسٍ تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قُتِلَتْ إِحَدَاهُمَا وَأَفْلَتَتِ الأُخْرَى فَأَسْلَمَتْ.
2756 ۔ عمر بن عثمان اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں فتح مکہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا چار لوگ ایسے ہیں جنہیں میں، حل، اور حرم، کسی بھی جگہ پر امان نہیں دوں گا، حویرث بن نقید، مقیس، ہلال بن خطل اور عبداللہ بن ابوسرح۔
(راوی بیان کرتے ہیں) حویرث کو حضرت علی (رض) نے قتل کردیا ، مقیس کو اس کے چچازاد ، لحا، نے قتل کردیا، ہلال بن خطل کو حضرت زبیر (رض) نے قتل کردیا جہاں تک عبداللہ بن سرح کا تعلق ہے تو حضرت عثمان (رض) نے اس کے لیے امان مانگ لی وہ ان کا رضاعی بھائی تھا اس طرح مقیس کی دوکنیزیں تھیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو میں کی جانے والی شاعری گایا کرتی تھیں ان دونوں میں سے ایک قتل ہوگئی اور دوسری بچ گئی اس نے بعد میں اسلام قبول کرلیا تھا۔