2762 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِى الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِى الثَّمَرِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ فَقَالَ « مَنْ أَسْلَفَ فَلْيُسْلِفْ فِى كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ وَأَجَلٍ مَعْلُومٍ ». لَفْظُ النَّيْسَابُورِىِّ. وَقَالَ الْمَحَامِلِىُّ فِى الطَّعَامِ وَالثَّمَرِ أَوِ النَّخْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَكَيْلٍ مَعْلُومٍ ».
2762 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ ایک سال یادوسال کے لیے بیع سلف کیا کرتے تھے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا، جس شخص نے سلف (ادھار) سودا کرنا ہو تو وہ متعین پیمائش اور متعین وزن کے عوض میں متعین مدت کے لیے سوداکرے۔
روایت کے یہ الفاظ نیشاپوری نامی راوی کے ہیں ، محالی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں وہ اناج کھجور یا کھجور کے درختوں کے بارے میں بیع سلف کیا کرتے تھے تو نبی نے ارشاد فرمایا، متعین مدت کے لیے کرو اور ماپی ہوئی چیز کی بیع کرو۔