2774 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ كُنَّا إِذَا تَبَايَعْنَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقِ الْمُتَبَايِعَانِ. قَالَ فَبَايَعْتُ أَنَا عُثْمَانَ فَبِعْتُهُ مَالِى بِالْوَادِى بِمَالٍ لَهُ بِخَيْبَرَ قَالَ فَلَمَّا بِعْتُهُ طَفِقْتُ أَنْكُصُ الْقَهْقَرَى خَشْيَةَ أَنْ يُرَادَّنِى عُثْمَانُ الْبَيْعَ قَبْلَ أَنْ أُفَارِقَهُ.
2774 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں جب ہم آپس میں کوئی سودا کیا کرتے تھے تو دونوں فریقوں سے ہر ایک کو اختیار ہوتا تھا جب تک سودا کرنے والے دونوں فریق ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے اور حضرت عثمان نے ایک سودا کیا، میں نے اپنی زمین جو وادی میں موجود تھی وہ ان کی زمین میں جو خیبر میں موجود تھی فروخت کردی، حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں جب میں نے انھیں وہ فروخت کردی تو اس کے بعد میں الٹے قدم تیزی سے واپس ہوا اس اندیشے کے تحت کہ کہیں میرے ان سے جدا ہونے سے پہلے حضرت عثمان اس سودے کو ختم نہ کردیں۔