2790 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاَءً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ حَدَّثَنِى ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى جَعْفَرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً يُقَالُ لَهُ شَهْرٌ كَانَ تَاجِرًا وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَحَدٍ حَتَّى يَذَرَ إِلاَّ الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ.
2790 ۔ زید بن اسلم بیان کرتے ہیں میں نے ایک آدمی کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے ان کا نام شہر تھا وہ تاجر تھا انھوں نے حضرت حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے بیع مزایدہ کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے دریافت کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع کیا ہے کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سو دار کرے (یہ اس وقت تک نہیں کرسکتا) جب تک کوئی دوسرا شخص اسے چھوڑ نہیں دیتا، البتہ مال غنیمت کا اور وراثت کا حکم مختلف ہے۔