2804 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الأَعْرَابِىُّ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شَاذَانُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ. قَالَ أَيُّوبُ فَسَّرَ يَحْيَى بْنُ أَبِى كَثِيرٍ بَيْعَ الْغَرَرِ قَالَ إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ ضَرْبَةَ الْغَائِصِ وَبَيْعَ الْعَبْدِ الآبِقِ وَبَيْعَ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ وَبَيْعَ مَا فِى بُطُونِ الأَنْعَامِ وَبَيْعَ تُرَابِ الْمَعَادِنِ وَبَيْعَ مَا فِى ضُرُوعِ الأَنْعَامِ إِلاَّ بِكَيْلٍ
2804 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔
ایوب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یحییٰ نامی راوی نے بیع غر کی وضاحت کی ہے وہ فرماتے ہیں بیع غرر میں یہ بات شامل ہے ، غوطہ خور غوطہ لگاکرجوچیز نکال کے لائے گا اس کا سودا کیا جائے بیع غرر میں یہ بات شامل ہے بھاگے ہوئے غلام کا سودا کیا جائے یابھاگے ہوئے اونٹ کا سودا کیا جائے یا جانوروں کے پیٹ میں موجود جو چیز ہے اس کا سودا کیا جائے یا معدنیات کے اندر جو کچھ نکلے گا اس کا سودا کیا جائے یا جانوروں کے تھنوں میں جو چیز ہے اس کا سودا کیا جائے البتہ اگر ماپی ہوئی چیز کا سودا کیا جائے (تواگراتنادودھ نکلے گا توسودا ہوگا) تو ایسا کرنا جائز ہے۔