2810 - حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِىُّ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ يَقُولُ بَاعَ شَرِيكٌ لِى دَرَاهِمَ فِى السُّوقِ بِنَسِيئَةٍ فَقُلْتُ لاَ يَصْلُحُ هَذَا. فَقَالَ لَقَدْ بِعْتُهَا فِى السُّوقِ فَمَا عَابَ ذَلِكَ عَلَىَّ أَحَدٌ. قَالَ فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَقَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ. فَقَالَ « مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلاَ يَصْلُحُ » وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
2810 ۔ عبدالرحمن بن مطعم بیان کرتے ہیں میرے شراکت دار نے کچھ درہم ادھا رخریدے تو میں نے کہا یہ ٹھیک نہیں ہے تو اس شخص نے کہا میں نے تو یہ بازار میں بیچے ہیں اور کسی شخص نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں میں نے اس بارے میں حضرت براء بن عازب سے دریافت کیا تو انھوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تھے تو ہم اس طرح کا سودا کرلیا کرتے تھے تو نبی نے ارشاد فرمایا جو لین دین دست بہ دست ہو اس میں کوئی حرج نہیں جو ادھار کے طور پر ہو وہ ٹھیک نہیں ہوگا۔
تم حضرت زید بن ارقم سے مل کر دریافت کرو، کیونکہ تجارت کے مسائل کے بارے میں وہ ہم سب سے زیادہ واقف ہیں۔ راوی کہتے ہیں جب میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے بھی یہی بات کہی۔