2812 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِىُّ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَ سَوَادَ بْنَ غَزِيَّةَ أَخَا بَنِى عَدِىٍّ مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَّرَهُ عَلَى خَيْبَرَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ - يَعْنِى الطَّيِّبَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ». قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَشْتَرِى الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِثَلاَثَةِ آصُعٍ مِنَ الْجَمْعِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَفْعَلْ وَلَكِنْ بِعْ هَذَا وَاشْتَرِ بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ ». يُقَالُ كُلُّ شَىْءٍ مِنَ النَّخْلِ لاَ يُعْرَفُ اسْمُهُ فَهُوَ جَمْعٌ يُقَالُ مَا أَكْثَرَ الْجَمْعَ فِى أَرْضِ فُلاَنٍ بِفَتْحِ الْجِيمِ.
2812 ۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سواد بن غزیہ جو بنی عدی سے تعلق رکھتے ہیں انھیں بھیجا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں خیبر کا نگران مقرر کیا وہاں سے عمدہ کھجوریں لے کر آتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں۔ ؟ انھوں نے عرض کی نہیں، یارسول اللہ ، اللہ کی قسم میں نے دوصاع کے عوض میں صاع اور تین صاع کے عوض میں دوصاع اچھی کھجوریں خریدی ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ایسانہ کرو بلکہ پہلے انھیں فروخت کرو پھر ان کی قیمت کے ذریعے انھیں (یعنی اچھی کھجوروں کو) خریدو۔ اسی طرح وزن کی جانے والی تمام چیزوں میں کرو۔
امام دار قطعنی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کھجور کی ہر وہ قسم جس کا کوئی نام متعین نہ ہو، اسے جمع کہا جاتا ہے ، جیسے فلاں کی زمین میں جمع (یعنی مختلف قسم کی کھجوریں) ہیں۔