2825 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمَذَانِىُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِىُّ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا اخْتَلَفَ الْمُتَبَايِعَانِ فِى الْبَيْعِ وَالسِّلْعَةُ كَمَا هِىَ لَمْ تُسْتَهْلَكْ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ ».
2825 ۔ قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب سودا کرنے والے دونوں فریقوں کے درمیان سودے کے بارے میں اختلاف ہوجائے اور سامان اسی صورت میں موجود ہو ہلاک نہ ہواہو تو اس بارے میں فروخت کرنے والے کا قول معتبر ہوگا یاپھروہ دونوں اس سودے کو ختم کردیں گے۔