2834 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ - يَعْنِى سَعِيدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِىَّ - قَالاَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ لأَبِيهِ فَكَانَ يَغْلِبُهُ حَتَّى يَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَيَصِيحَ بِهِ عُمَرُ وَيَغْلِبُهُ الْبَكْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « بِعْنِيهِ يَا عُمَرُ ». فَاشْتَرَاهُ فَدَعَا ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ « هُوَ لَكَ اصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ ». وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ عَبَّادٍ.
2834 ۔ عمرو نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ایک ایسے اونٹ پر سوار تھے جو قابو میں نہیں آتا تھا، وہ ان کی والد کی ملکیت تھا، حضرت عبداللہ بن عمر اس پر قابو نہیں پاسکے وہ اونٹ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹ سے آگے نکل گیا بعد میں انھیں جھڑکا لیکن وہ اونٹ ان کے قابو میں نہیں آیا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے عمر ! مجھے فروخت کردو پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے خرید لیا، پھر نبی کریم نے حضرت عبداللہ بن عمر کو بلایا اور فرمایا یہ تمہارا ہوا اب تم اس کے ساتھ جو چاہو سلوک کرو۔
روایت کے یہ الفاظ ابن عباد نامی راوی کے ہیں۔