2839 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ. وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ الْخَضِيبُ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِىُّ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالاَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ بِالنَّقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِى هَذِهِ مِنْ هَذِهِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ فِى بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رُوَيْدَكَ أَسْأَلْكَ إِنِّى أَبِيعُ الإِبِلَ بِالنَّقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِى هَذِهِ مِنْ هَذِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَىْءٌ ». وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ فَأُعْطِى هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِى هَذِهِ مِنْ هَذِهِ فِى الْمَوْضِعَيْنِ وَالْبَاقِى مِثْلَهُ.
2839 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں میں بقیع میں اونٹوں کا سودا کیا کرتا تھا، بعض اوقات میں انھیں دینار کے عوض میں فروخت کرتا تھا، اور دینار کی جگہ درہم وصول کرلیتا تھا اور بعض اوقات درہم کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور درہم کی جگہ دینار وصول کرلیتا تھا، یہ اس کی جگہ لے لیتا تھا، اور وہ اس جگہ دے دیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہواتو آپ اس وقت سیدہ حفصہ کے گھر میں موجود تھے میں نے عرض کی، یارسول اللہ میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتاہوں میں نفیع میں اونٹوں کا سوداکرتاہوں تو بعض اوقات میں دینار کے عوض میں فروخت کرتا ہوں لیکن درہم وصول کر لیتاہوں بعض اوقات درہم کے عوض میں فروخت کرتا ہوں اور دینار وصول کر لیتاہوں یہ میں اس کی جگہ لے لیتاہوں اور وہ اس کی جگہ لے لیتاہوں۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر تم اس دن کے بھاؤ کے حساب سے لیتے رہو۔ وارجب تک تم دونوں جدا نہیں ہوتے یا تمہارے درمیان کوئی شرط طے نہیں ہوتی۔
ایک روایت میں الفاظ کا کچھ اختلاف ہے۔