2848 - وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّىُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَارِثَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِى قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَلاَ وَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَىْءٌ إِلاَّ بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ » قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّى. ذَكَرَ بَاقِى الْحَدِيثِ وَقَالَ فِيهِ « إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَأَزْنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِيشِ ». أَرْضٌ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْجَارِ أَرْضٌ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ.
2848 ۔ حضرت عمرو بن یثربی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا خبردار کسی بھی مسلمان کے لیے اس کے بھائی کا مال حلال نہیں ہے ماسوائے اس چیز کے جسے وہ خود اپنی پسند سے دے۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہ اگر مجھے اپنے چچازاد کی بکریاں ملتی ہیں (اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا) اگر تمہیں وہ بکری خبت الحمیش (یہ ایک ویرانہ کا نام ہے ) میں وہ بکری ملتی ہے اور اس وقت تم نے چھری اور بکری کو باندھنے کا سامان اٹھایا ہوا ہے تو بھی تم اسے ہاتھ نہیں لگاسکے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ (خبت الحمیش) مکہ اور اس کے نواح کے درمیان ایک جگہ ہے ، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں کوئی آبادی نہیں ہے اس سند میں راوی نے ابن ابی سعید کا تذکرہ نہیں کیا، تاہم پہلی روایت زیادہ مستند ہے۔