2880 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ أَبِى حَرْمَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَنَّ مَوْلًى لأُمِّ حَبِيبَةَ أَفْلَسَ فَأُتِىَ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَضَى عُثْمَانُ أَنَّ مَنْ كَانَ اقْتَضَى مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يُفْلِسَ فَهُوَ لَهُ وَمَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
2880 ۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ (رض) کے غلام کو مفلس قرار دے دیا گیا اسے حضرت عثمان (رض) کے پاس لایا گیا تو اس کے بارے میں حضرت عثمان نے یہ فیصلہ دیا اس کے مفلس ہونے سے پہلے جس شخص نے اپنے حق میں سے کچھ وصول کرلیا تھا وہ اس کا ہوا اور جو شخص اپنے سامان کو بعینہ اس کے پاس پائے وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہوگا۔