2924 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ وَآخَرُونَ قَالُوا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِىِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِىَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ فِى خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ « إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِى حَقٍّ حَقَّهُ فَلاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ التَّابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لاَ تُنْفِقِ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا ». قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ الطَّعَامُ قَالَ « ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا - ثُمَّ قَالَ - الْعَارِيَّةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ. وَالدَّيْنُ مَقْضِىٌّ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ ».
2924 ۔ حضرت ابوامامہ باہلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبے کے دوران نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے ہر حق دار کا حق مقرر کیا ہے اس لیے وارث کے لیے وصیت نہیں کی جاسکتی ۔ بچہ صاحب فراش کو ملے گا، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی۔ اور ان لوگوں کا حساب اللہ کے ذمے ہوگا۔ جو شخص اپنے حقیقی بات کے علاوہ یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے توای سے شخص پر اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی طرف سے قیامت کے دن تک لعنت ہوتی رہے گی۔ عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں سے کچھ خرچ نہ کرے ، عرض کی گئی یارسول اللہ اناج بھی نہیں ؟ نبی کریم نے فرمایا وہ ہمارا سب سے اہم مال ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا عارضی طور پر استعمال کے لیے کی جانے والی چیز واپس کی جائے گی اور عطیے کے طور پر عارضی استعمال کے لیے جو چیز دی گئی ہو) وہ بھی واپس کی جائے گی ، فرض ادا کیا جائے گا اور نگران شخص تاوان ادا کرنے کا پابند ہوگا۔