2927 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ أَخْبَرَنِى أَبِى حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ تَفْسِيرِ « الْعَارِيَّةُ مُؤَدَّاةٌ » قَالَ أَسْلَمَ قَوْمٌ وَفِى أَيْدِيهِمْ عَوَارِى مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالُوا قَدْ أَحْرَزَ لَنَا الإِسْلاَمُ مَا بِأَيْدِينَا مِنْ عَوَارِى الْمُشْرِكِينَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « إِنَّ الإِسْلاَمَ لاَ يُحْرِزُ لَكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمُ الْعَارِيَّةُ مُؤَدَّاةٌ ». فَأَدَّى الْقَوْمُ مَا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ تِلْكَ الْعَوَارِى. هَذَا مُرْسَلٌ وَلاَ يَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ.
2927 ۔ عطاء بن ابی رباح نے روایت کے یہ الفاظ (عارضی طور پر لی گئی چیز واپس کی جائے گی ) کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات بتائی ہے کہ ایک قبیلہ کے لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان کے پاس کچھ ایسی چیزیں تھیں جو مشرکین سے انھوں نے عارضی استعمال کے لیے لی تھیں، ان لوگوں نے یہ کہا اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مشرکین کی یہ اشیاء جو ہمارے پاس ہیں یا ہمارے پاس آگئی ہیں جب اس بات کی اطلاع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا اسلام تمہیں ایسی کسی چیز پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا جو تمہاری ملکیت نہ ہو عارضی استعمال کے لیے لی گئی چیز واپس کی جائے گی توپھران لوگوں نے (مشرکین کی) وہ چیزیں انھیں واپس کردیں۔