2929 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَابْنُ مَخْلَدٍ وَجَمَاعَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِىُّ حَدَّثَنَا رِبْعِىُّ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِى هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ جَاءَ بِى أَبِى يَحْمِلُنِى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ اشْهَدْ أَنِّى قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِى كَذَا وَكَذَا. قَالَ « أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِى نَحَلْتَ النُّعْمَانَ ». قَالَ لاَ. قَالَ « فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِى أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِى الْبِرِّ سَوَاءً ». قَالَ بَلَى. قَالَ « فَلاَ إِذًا ». وَقَالَ الْمَحَامِلِىُّ « أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ ».
2929 ۔ حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے اٹھا کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے اور بولے آپ اس بات پر گواہ بن جائیں کہ میں نے اپنے مال میں سے اتنامال نعمان کودے دیا ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو عطیے کے طور پر اتنی ہی ادائیگی کی ہے جتنی تم نے نعمان کو دی ہے ؟ انھوں نے عرض کی نہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تم میری بجائے کسی اور کو گواہ بنالو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگے گی کہ وہ سب (یعنی تمہاری اولاد) تمہارے ساتھ ایک جیسا اچھا سلوک کرے تو انھوں نے عرض کی جی ہاں ! نبی کریم نے فرمایا پھر تم ایسانہ کرو۔
محامل کہتے ہیں (روایت میں یہ الفاظ ہیں ) کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح عطیہ دیا ہے۔