hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 2952

.

سنن الدارقطني

2952
Sunan Al Daraqutni
2952 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ السَّكُونِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِىِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا أُتِىَ بِالْجَنَازَةِ لَمْ يَسْأَلْ عَنْ شَىْءٍ مِنْ عَمَلِ الرَّجُلِ وَيَسْأَلُ عَنْ دَيْنِهِ فَإِنْ قِيلَ عَلَيْهِ دَيْنٌ كَفَّ عَنِ الصَّلاَةِ عَلَيْهِ وَإِنْ قِيلَ لَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ صَلَّى عَلَيْهِ فَأُتِىَ بِجَنَازَةٍ فَلَمَّا قَامَ لِيُكَبِّرَ سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَصْحَابَهُ « هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ». قَالُوا دِينَارَانِ فَعَدَلَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَقَالَ « صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ». فَقَالَ عَلِىٌّ رضى الله عنه هُمَا عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَرِئَ مِنْهُمَا. فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لِعَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ « جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَكَّ اللَّهُ رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ إِلاَّ وَهُوَ مُرْتَهِنٌ بِدَيْنِهِ وَمَنْ فَكَّ رِهَانَ مَيِّتٍ فَكَّ اللَّهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ». فَقَالَ بَعْضُهُمْ هَذَا لِعَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً قَالَ « بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً » .
2952 ۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کوئی جنازہ لایاجاتا تو آپ اس اعمال کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے صرف آپ اس کے قرض کے بارے میں سوال کرتے تھے اگر یہ بتایاجاتا کہ اس کے ذمے کوئی قرض لازم ہے تو آپ اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے اور اگر بتایاجاتا کہ اس کے ذمے کوئی قرض لازم نہیں ہے تو آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرلیتے تھے ۔ ایک مرتبہ جنازہ لایا گیا جب آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا کیا تمہارے ساتھی کے ذمے کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی دو دینار ہیں تو نبی کریم وہاں سے مڑ گئے ، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرلو۔ تو حضرت علی (رض) نے عرض کی یارسول اللہ ان دونوں کی ادائیگی میرے ذمے ہے یہ شخص ان دونوں سے بری ہے۔ تو نبی کریم آگے بڑھے آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپ نے حضرت علی بن ابوطالب سے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے اور تمہیں پریشانی سے اسی طرح نجات عطاء کرے جس طرح تم نے اپنے بھائی کی پریشانی کو ختم کیا ہے جو بھی شخص فوت ہوجاتا ہے اور اس کے ذمے قرض ہوتا ہے تو وہ اس قرض کے عوض میں گروی رکھاجاتا ہے اور جو شخص کسی میت کے قرض کی پریشانی کو ختم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی پریشانی کو ختم کرے گا۔
تو کسی صاحب نے عرض کی یہ بطور خاص حضرت علی کے لیے حکم ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے ؟ آپ نے فرمایا بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔