2962 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ مِنْ حِفْظِهِ سَنَةَ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ سَأَلَ سَعْدًا عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ فَكَرِهَهُ وَقَالَ سَعْدٌ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ وَقَالَ إِنَّهُ إِذَا يَبِسَ نَقَصَ.
2962 ۔ عبداللہ بن یزید بیان کرتے ہیں شیخ ابوعیاش نے حضرت سعد سے گندم کی دو قسموں کے بارے میں دریافت کیا (کیا ان کا آپس میں لین دین کیا جاسکتا ہے ) تو حضرت سعد (رض) نے اسے مکروہ قرار دیا بعد میں بتایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تر کھجوروں کے عوض خشک کھجوروں کا سودا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ جب وہ خشک ہوجاتی ہیں تو کم ہوجاتی ہیں۔