2965 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِى عَمِّى قَالَ حَدَّثَنِى مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ يَقُولُ سَمِعْتُ شُعَيْبًا يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « أَيُّمَا رَجُلٍ ابْتَاعَ مِنْ رَجُلٍ بِيعَةً فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا مِنْ مَكَانِهِمَا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ وَلاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ مَخَافَةَ أَنْ يُقِيلَهُ ».
2965 ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو بھی شخص کسی دوسرے کے ساتھ خریدو فروخت کرتا ہے تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہوگا (کہ وہ سودے کو ختم کردے) جب تک وہ اپنی جگہ سے جدا نہیں ہوجاتے ماسوائے اس صورت کے جب اس سودے میں اختیار دی ہو اور کسی بھی شخص کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے اس اندیشے کے تحت جدا ہوجائے کہ وہ اس سودے کو ختم کردے گا۔