2967 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ رَاشِدٍ وَعَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلاً أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَسْأَلُهُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَةٍ فَأَشَارَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ اذْهَبْ إِلَى ذَاكَ فَاسْأَلْهُ. قَالَ شُعَيْبٌ فَلَمْ يَعْرِفْهُ الرَّجُلُ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ بَطَلَ حَجُّكَ. قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ أَفَأَقْعُدُ قَالَ بَلْ تَخْرُجُ مَعَ النَّاسِ وَتَصْنَعُ مَا يَصْنَعُونَ فَإِذَا أَدْرَكْتَ قَابِلاً حُجَّ وَاهْدِ فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَأَخْبَرَهُ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَاسْأَلْهُ قَالَ شُعَيْبٌ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ مَا قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ قَالَ مَا تَقُولُ أَنْتَ قَالَ أَقُولُ مِثْلَ مَا قَالاَ.
2967 ۔ عمرو بن شعیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے حالت احرام والے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرلیتا ہے تو انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کی طرف اشارہ کیا فرمایا تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو۔ شعیب کہتے ہیں وہ حضرت عبداللہ بن عمر کو پہچانتا نہیں تھا تو میں اس شخص کے ساتھ گیا، پھر اس نے عبداللہ بن عمر سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیاتمہاراحج باطل ہوگیا ہے۔ تو اس شخص نے دریافت کیا کیا پھر اب میں بیٹھ جاؤں۔ انھوں نے کہا نہیں تم لوگوں کے ساتھ جاؤ لوگ جو کام کرتے ہیں تم بھی کرو اگلے سال پھر تم آکر حج کرلینا اور قربانی کا جانور ساتھ لے کر آنا۔ وہ شخص واپس حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور اس بارے میں بتایا تو حضرت عبداللہ نے اس سے فرمایا تم حضرت عباس (رض) کے پاس جاؤ ان سے دریافت کروشعیب کہتے ہیں میں اس شخص کے ساتھ گیا اس نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے دریافت کیا تو حضرت عباس نے بھی اسی کی مانند جواب دیا۔ جو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اسے جواب دیا تھا، وہ شخص واپس حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس آیا اور انھیں اس بارے میں بتایا جو حضرت عباس نے جواب دیا تھا، پھر اس شخص نے دریافت کیا آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا میں بھی اسی کی مانند جواب دیتاہوں جو انھوں نے بیان کیا ہے۔