2969 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ وُهَيْبٍ الدِّمَشْقِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ أَخْبَرَنِى شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنِى يُونُسُ بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِىُّ عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ أَيْفَعَ قَالَتْ حَجَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مُحِبَّةَ ح.وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ قَالَتْ خَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مُحِبَّةَ إِلَى مَكَّةَ فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهَا فَقَالَتْ لَنَا مِمَّنْ أَنْتُنَّ قُلْنَا مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَكَأَنَّهَا أَعْرَضَتْ عَنَّا فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ مُحِبَّةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَانَتْ لِى جَارِيَةٌ وَإِنِّى بِعْتُهَا مِنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ الأَنْصَارِىِّ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِهِ وَأَنَّهُ أَرَادَ بَيْعَهَا فَابْتَعْتُهَا مِنْهُ بِسِتِّمِائَةٍ نَقْدًا قَالَتْ فَأَقْبَلَتْ عَلَيْنَا فَقَالَتْ بِئْسَمَا شَرَيْتِ وَمَا اشْتَرَيْتِ فَأَبْلِغِى زَيْدًا أَنَّهُ قَدْ أَبْطَلَ جِهَادَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلاَّ أَنْ يَتُوبَ فَقَالَتْ لَهَا أَرَأَيْتِ إِنْ لَمْ آخُذْ مِنْهُ إِلاَّ رَأْسَ مَالِى قَالَتْ (فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ) قَالَ الشَّيْخُ أُمُّ مُحِبَّةَ وَالْعَالِيَةُ مَجْهُولَتَانِ لاَ يُحْتَجُّ بِهِمَا.
2969 ۔ یونس بن اسحاق اپنی والدہ عالیہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں اور ام قحبہ خاتون مکہ گئیں ہم سیدہ عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ہم نے انھیں سلام کیا، انھوں نے ہم سے دریافت کیا آپ کون خواتین ہیں ؟ ہم نے جواب دیا، ہم کوفہ سے تعلق رکھتی ہیں اب عالیہ بیان کرتی ہیں توگویاسیدہ عائشہ نے ہماری طرف توجہ نہیں کی توام قحبہ نے ان سے کہا اے ام المومنین میری ایک کنیز ہے میں اسے حضرت زید بن ارقم انصاری (رض) سے آٹھ سو درہم کے عوض میں خریدا جب تک ان کی ادائیگی نہیں ہوتی پھر جب انھوں نے اس کنیز کو فروخت کرنے کا ارادہ کرلیاتو میں نے چھے سو درہم نقد کے عوض اسے خرید لیا۔
راوی خاتون بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ہمارے طرف متوجہ ہوئیں فرمایا تم نے بہت براسودا کیا ہے تم زید کو جاکر بتا دینا کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو جہاد کیا تھا اسے خراب کرلیا ہے البتہ اگر وہ توبہ کرلیں تو حکم مختلف ہوگا، تو اس خاتون نے سیدہ عائشہ سے کہا، آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ان سے اپنی اصل رقم وصول کرلوں توسیدہ عائشہ نے یہ آیت تلاوت کی۔
'' جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آجائے اور وہ باز آجائے توجوپہلے ہوچکا ہے وہ اس کا ہوگا ''
شیخ بیان کرتے ہیں قحبہ اور عالیہ نامی خواتین مجہول ہیں ان کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔