2972 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ عَنِ ابْنِ أَبِى ذِئْبٍ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رُحْضَةَ الْغِفَارِىِّ أَنَّ عَبْدًا كَانَ بَيْنَ شُرَكَاءٍ لَهُ فَبَاعُوهُ وَرَجُلٌ مِنَ الشُّرَكَاءِ غَائِبٌ فَلَمَّا قَدِمَ أَبَى أَنْ يُجِيزَ بَيْعَهُ فَاخْتَصَمُوا فِى ذَلِكَ إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ فَقَضَى أَنْ يُرَدَّ الْبَيْعُ وَيَتَبَايَعُوهُ الْيَوْمَ وَيُؤْخَذَ مِنْهُ الْخَرَاجُ وَوَجَدُوا الْخَرَاجَ فِيمَا مَضَى مِنَ السِّنِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ فَبِيعَ فِيهِ غُلاَمَانِ لَهُ قَالَ فَجِئْتُ إِلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ حَدَّثَتْنِى عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ فَدَخَلَ عُرْوَةُ عَلَى هِشَامٍ فَحَدَّثَهُ ذَلِكَ فَرَدَّ بَيْعَ الْغُلاَمَيْنِ وَتَرَكَ الْخَرَاجَ .
2972 ۔ حضرت مخلد بن خفاف (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک غلام کچھ لوگوں کی مشترکہ ملکیت تھا ان لوگوں نے اسے فروخت کردیا شراکت داروں میں سے ایک شخص غیر موجود تھا، جب وہ آیا تو اس نے اس سودے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا، وہ لوگ اپنا مقدمہ ہشام بن اسماعیل کے پاس آئے تو انھوں نے یہ فیصلہ دیا کہ یہ سودا کالعدم قرار دیا جائے گا اور وہ لوگ اس دن کے ریٹ کے حساب سے سودا کریں گے اور اسے خراج وصول کرلیا جائے گا پھر جو دو سال گزرچکے تھے ان کا خراج ایک ہزار درہم بنا تو اس غلام کے عوض دو غلام فروخت کیے گئے۔
میں عروہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا سیدہ عائشہ نے مجھے یہ حدیث سنائی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ دیا کہ خراج زمان کے حساب سے ہوگا، پھر عروہ ہشام کے پاس تشریف لائے اور انھیں اس بارے میں بتایا اس نے ان دونوں غلاموں کا سودا کالعدم کردیا اور خراج ترک کردیا۔