2978 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الدَّقَّاقُ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ كَانَتْ بِلِسَانِهِ لَوْثَةٌ وَكَانَ لاَ يَزَالُ يُغْبَنُ فِى الْبُيُوعِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ « إِذَا بِعْتَ فَقُلْ لاَ خِلاَبَةَ مَرَّتَيْنِ
قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ قَالَ هُوَ جَدِّى مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو - وَكَانَ رَجُلاً قَدْ أَصَابَتْهُ آمَّةٌ فِى رَأْسِهِ فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ وَنَازَعَتْهُ عَقْلَهُ - وَكَانَ لاَ يَدَعُ التِّجَارَةَ وَلاَ يَزَالُ يُغْبَنُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ « إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لاَ خِلاَبَةَ ثُمَّ أَنْتَ فِى كُلِّ سِلْعَةٍ تَبْتَاعُهَا بِالْخِيَارِ ثَلاَثَ لَيَالٍ فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْهَا عَلَى صَاحِبِهَا » . وَكَانَ عُمِّرَ عُمْرًا طَوِيلاً عَاشَ ثَلاَثِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ وَكَانَ فِى زَمَنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضى الله عنه حِينَ فَشَا النَّاسُ وَكَثُرُوا يَبْتَاعُ الْبَيْعَ فِى السُّوقِ وَيَرْجِعُ بِهِ إِلَى أَهْلِهِ وَقَدْ غُبِنَ غَبْنًا قَبِيحًا فَيَلُومُونَهُ وَيَقُولُونَ لِمَ تَبْتَاعُ فَيَقُولُ فَأَنَا بِالْخِيَارِ إِنْ رَضِيتُ أَخَذْتُ وَإِنْ سَخِطْتُ رَدَدْتُ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- جَعَلَنِى بِالْخِيَارِ ثَلاَثًا فَيَرُدُّ السِّلْعَةَ عَلَى صَاحِبِهَا مِنَ الْغَدِ وَبَعْدَ الْغَدِ فَيَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَقْبَلُهَا قَدْ أَخَذْتَ سِلْعَتِى وَأَعْطَيْتَنِى دَرَاهِمَ قَالَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ جَعَلَنِى بِالْخِيَارِ ثَلاَثًا فَكَانَ يَمُرُّ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَيَقُولُ لِلتَّاجِرِ وَيْحَكَ إِنَّهُ قَدْ صَدَقَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ كَانَ جَعَلَهُ بِالْخِيَارِ ثَلاَثًا. قَالَ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ قَالَ مَا عَلِمْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ جَعَلَ الْعُهْدَةَ ثَلاَثًا إِلاَّ لِذَلِكَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى مُنْقِذِ بْنِ عَمْرٍو.
2978 ۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے انھیں یہ بات بتائی کہ ایک انصاری کی زبان میں کچھ لکنت تھی اور اس کے ساتھ سودے میں ہمیشہ گھاٹا ہوجایا کرتا تھا وہ نبی کریم کی خدمت میں حاضڑ ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا جب تم کوئی چیز فروخت کرو تودومرتبہ یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی گھاٹا برداشت نہیں ہوگا۔
حضرت منقر بن عمرو کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے سر میں چوٹ لگ گئی تھی جس کی وجہ سے ان کی زبان میں اثر پڑا تھا، اور اس کی ذہنی کیفیت بھی کچھ تبدیل ہوگئی تھی وہ تجارت کیا کرتے تھے اور تجارت میں ہمیشہ انھیں خسارہ ہوتا تھا وہ نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا جب تم کوئی چیز فروخت کرو تو یہ کہہ دیاکرو کہ کوئی گھاٹ نہیں ہوگا، پھر تم جس سامان کو خریدتے ہو اس کے بارے میں تم تین دن تک اختیار رکھو گے اگر تین دن کے بعد تم راضی ہوئے تو اسے اپنے پاس رکھنا اور اگر پسند نہ ہوا تو اس کے مالک کو واپس کردینا۔
ان صحابی کی عمر بڑی طویل ہوئی وہ ایک سوتیس سال تک زندہ رہے تھے۔ حضرت عثمان (رض) کے زمانے میں جب لوگ ہر طرف پھیل گئے تھے اور لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا تھا اور بازار میں خوب سودا ہوا کرتا تھا اس وقت وہ بازار میں خریدو فروخت کیا کرتے تھے ۔