2990 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْكِينٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ سَارَ إِلَى مَكَّةَ لِيَفْتَحَهَا قَالَ لأَبِى هُرَيْرَةَ « اهْتِفْ بِالأَنْصَارِ ». فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَجِيبُوا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجَاءُوا كَأَنَّمَا كَانُوا عَلَى مِيعَادٍ ثُمَّ قَالَ « اسْلُكُوا هَذَا الطَّرِيقَ وَلاَ يُشْرِفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ أَنَمْتُمُوهُ ». يَقُولُ قَتَلْتُمُوهُ. فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ الَّذِى يَلِى الصَّفَا فَصَعِدَ الصَّفَا فَخَطَبَ النَّاسَ وَالأَنْصَارُ أَسْفَلَ مِنْهُ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَخَذَتْهُ الرَّأْفَةُ بِقَوْمِهِ وَالرَّغْبَةُ فِى قَرْيَتِهِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْوَحْىَ بِمَا قَالَتِ الأَنْصَارُ فَقَالَ « يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ تَقُولُونَ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَدْرَكَتْهُ رَأْفَةٌ بِقَوْمِهِ وَرَغْبَةٌ فِى قَرْيَتِهِ قَالَ فَمَنْ أَنَا إِذًا كَلاَّ وَاللَّهِ وَإِنِّى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ حَقًّا وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ » قَالُوا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا قُلْنَا ذَلِكَ إِلاَّ مَخَافَةَ أَنْ تُفَارِقَنَا. قَالَ « أَنْتُمْ صَادِقُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ ».قَالَ فَوَاللَّهِ مَا فِيهِمْ إِلاَّ مَنْ بَلَّ نَحْرَهُ بِالدُّمُوعِ.
2990 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے فرمایا انصار کو بلا کر لاؤ ! تو انھوں نے اعلان کیا اے انصار ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ، انصار آئے یوں جیسے وہ پہلے سے طے شدہ ملاقات کے تحت آئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اس راستے پر چلو ، جو بھی تمہارے سامنے آنے کی کوشش کرے تم اسے قتل کردو پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روانہ ہوئے اللہ نے انھیں فتح نصیب کی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا، آپ نے دو رکعت نماز ادا کی پھر اس دروازے سے باہر نکلے جو صفا (پہاڑی ) کے قریب تھا، پھر آپ صفا پرچڑھے آپ نے لوگوں سے خطاب کیا، اس وقت (انصار) پہاڑی کے زیریں حصے میں تھے ان میں سے کسی نے اپنے ساتھی سے کہا اب ان صاحب کے دل میں اپنی قوم کی محبت اجاگر ہوگئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہوگیا ہے۔ تو انصار کے لوگوں نے جو یہ بات کہی تھی اللہ نے وحی کے ذریعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا، اے انصار ! تم نے یہ کہا ہے اب ان صاحب کے دل میں قوم کی محبت اجاگر ہوگئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہوگیا ہے پھر آپ نے فرمایا میں کون ہوں ؟ اللہ کی قسم میں واقعی اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں میری زندگی اور میری موت تمہارے ساتھ ہے انصار نے عرض کیا یارسول اللہ اللہ کی قسم ہم نے یہ بات صرف اس اندیشے کے تحت کہی تھی کہ کہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے علیحدگی اختیار نہ کرلیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں تم لوگ سچے ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں اللہ کی قسم اس وقت ان میں سے ہر ایک شخص کے آنسو بہتے ہوئے اس کی گردن تک آرہے تھے۔