3020 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِى الرِّجَالِ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِىُّ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرُّوذِىُّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَرِيشِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَقُلْتُ إِنَّا بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ وَإِنَّمَا نَبْتَاعُ الإِبِلَ وَالْغَنَمَ إِلَى أَجَلٍ فَمَا تَرَى فِى ذَلِكَ قَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِبِلاً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ حَتَّى نَفِدَتْ وَبَقِىَ أُنَاسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اشْتَرِ لَنَا إِبِلاً بِقَلاَئِصَ مِنَ الصَّدَقَةِ إِذَا جَاءَتْ حَتَّى نُؤَدِّيَهَا إِلَيْهِمْ ». فَاشْتَرَيْتُ الْبَعِيرَ بِالاِثْنَيْنِ وَالثَّلاَثِ قَلاَئِصَ حَتَّى فَرَغْتُ فَأَدَّى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ.
3020 ۔ عمرو بن حریش بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے سوال کیا، ہم ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں دینار درہم کا رواج نہیں ہے ہم لوگ مقررہ مدت کے بعد ادائیگی کی شرط پر اونٹ اور بکریاں خرید لیتے ہیں اور آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا تم نے ایسے شخص سے سوال کیا ہے جو اس بارے میں جانتا ہے ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ کے لیے صدقوں کے اونٹوں میں سے اونٹ دیے یہاں تک کہ اونٹ ختم ہوگئے لیکن کچھ لوگ بچ گئے جن کے پاس سواری کے لیے جانور نہیں تھے، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، تم ہمارے لیے کچھ اونٹ خرید لو جو جوان اونٹنیوں کے عوض میں ہوں گے جو صدقے کے طور پر وصول ہوں گی جب صدقات آئیں گے تو ہم ان لوگوں کو وہ ادائیگی کردیں گے ۔
راوی کہتے ہیں) تو میں نے دویاتین جوان اونٹنیوں کے عوض میں ایک اونٹ خریدا، یہاں تک کہ میں فارغ ہوگیا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صڈقہ کے اونٹوں میں سے اس کی ادائیگی کی۔