3039 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِى هُرَيْرَةَ رَفَعَا الْحَدِيثَ قَالَ « لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ تَلَقَّوُا السِّلَعَ بِأَفْوَاهِ الطُّرُقِ وَلاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ يَسُمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَرُدَّ وَلاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِى صَحْفَتِهَا فَإِنَّمَا لَهَا مَا كُتِبَ لَهَا وَلاَ تَبِيعُوا الْمُصَرَّاةَ مِنَ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ فَمَنِ اشْتَرَاهَا فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ وَالرَّهْنُ مَحْلُوبٌ وَمَرْكُوبٌ ».
3039 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے) ارشاد فرمایا ہے شہری شخص دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، سامان ( کے قافلے کو منڈی میں پہنچنے سے پہلے) راستے میں نہ خریدو ، مصنوعی بولی نہ لگاؤ، کوئی شخص اپنے بھائی کی لگائی ہوئی قیمت کے مقابلے میں قیمت نہ لگائے، کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح کے مقابلے میں پیغام نہ بھیجے جب تک وہ دوسرا شخص نکاح نہ کرلے یا اس پیغام کو ختم نہ کردے ، کوئی عورت اپنی بہن (سوکن) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے ذریعے وہ اس (سوکن) کے حصے کے فوائد حاصل کرلے ، کیونکہ اس عورت کو وہی ملے گا جو اس کے نصیب میں ہوگا، مصراۃ اونٹنی اور بکری کو فروخت نہ کرو جو شخص اسے خرید لے گا اسے اختیار ہوگا، اگر وہ چاہے تو کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کردے ، رہن میں (رکھے ہوئے) جانور کا دودھ دوہا جاسکتا ہے اور اس پر سواری کی جاسکتی ہے۔