hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3051

.

سنن الدارقطني

3051
Sunan Al Daraqutni
3051 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِىٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَاتَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَوَضَعْنَاهُ لَرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَيْثُ تُوضَعُ الْجَنَائِزُ عِنْدَ مَقَامِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ آذَنَّا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الصَّلاَةِ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعَنَا خُطًى ثُمَّ قَالَ « لَعَلَّ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنًا ». قَالُوا نَعَمْ دِينَارَانِ فَتَخَلَّفَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُمَا عَلَىَّ . فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « هُمَا عَلَيْكَ وَفِى مَالِكَ وَحَقُّ الرَّجُلِ عَلَيْكَ وَالْمَيِّتُ مِنْهُمَا بَرِىءٌ ». فَقَالَ نَعَمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا لَقِىَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ « مَا صَنَعْتَ فِى الدِّينَارَيْنِ » حَتَّى كَانَ آخِرَ ذَلِكَ قَالَ قَدْ قَضَيْتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « الآنَ حِينَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ ».
3051 ۔ حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں ایک صاحب کا انتقال ہوگیا، ہم نے انھیں غسل دیا، کفن دیا، انھیں خوشبو لگائی اور اسے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی جگہ کے پاس رکھ دیا، جہاں جنازے رکھے جاتے تھے پھر ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں بتایا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں ، پھر نبی کریم ہمارے ساتھ چند قدم چل کر آئے پھر آپ نے فرمایا شاید تمہارے ساتھی کے ذمہ کچھ قرض تھا ، لوگوں نے عرض کی جی ہاں۔ دو دینار تھے ، تو نبی کریم واپس مڑنے لگے ہم میں سے ایک صاحب جن کا نام ابوقتادہ تھا، انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خدمت میں عرض کی یارسول اللہ ان دونوں (دیناروں) کی ادائیگی میرے ذمہ ہے ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ان دونوں کی ادائیگی تمہارے ذمہ ہے اور تمہارے مال میں سے ہوگی ، اور (وصول کرنے والے) شخص کا حق تمہارے ذمہ ہے ، یہ مرحوم ان دونوں سے بری ہے ، تو حضرت ابوقتادہ نے عرض کی جی ہاں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ۔ اس کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب بھی حضرت ابوقتادہ سے ملاقات ہوئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے یہی دریافت کیا تم نے ان دو دیناروں کا کیا کیا ؟ آخر کار جب حضرت قتادہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا یارسول اللہ میں ان دونوں کو ادا کردیا ہے ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اب اس شخص کو ٹھنڈک نصیب ہوئی ہے۔