3107 - قُرِئَ عَلَى أَبِى مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِى ذِئْبٍ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىُّ عَنْ أَبِى شُرَيْحٍ الْكَعْبِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَرَّمَ مَكَّةَ « فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَسْفِكَنَّ فِيهَا دَمًا وَلاَ يَعْضِدَنَّ فِيهَا شَجَرًا فَإِنْ تَرَخَّصَ مُتَرَخِّصٌ فَقَالَ إِنَّهَا أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِى سَاعَةً وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِى سَاعَةً ثُمَّ هِىَ حَرَامٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ وَإِنِّى عَاقِلُهُ فَمَنْ يُقْتَلُ لَهُ قَتِيلٌ بَعْدَ مَقَالَتِى هَذِهِ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ بِأَنْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ أَوْ يَقْتُلُوا ».
3107 ۔ حضرت ابوشریح کعبی (رض) بیان کرتے ہیں : (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے ، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی بھی شخص اس میں خون نہ بہائے اور یہاں کے درخت نہ کاٹے اگر کوئی شخص عذر پیش کرتے ہوئے یہ کہے کہ اللہ کے رسول کے لیے اسے حلال قرار دیا گیا تھا تو اللہ نے اسے میرے لیے تھوڑے سے وقت کے لیے حلال قرار دیا تھا، اسے دوسرے لوگوں کے لیے حلال قرار نہیں دیا، میرے لیے بھی یہ تھوڑی سی دیر کے لیے حلال قرار دیا گیا پھر قیامت قائم ہونے تک یہ حرم رہے گا، اے خزاعہ قبیلہ کے لوگو۔ تم نے ہذیل قبیلہ کے ایک شخص کو قتل کردیا تھا میں اس کی دیت دوں گا، میرے اس بیان کے بعد جن لوگوں کا کوئی شخص قتل ہوجائے انھیں دو میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا، یا تو وہ دیت وصول کرلیں (یاقصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کردیں۔