3109 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِى الْعَوْجَاءِ عَنْ أَبِى شُرَيْحٍ الْخُزَاعِىِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ - وَالْخَبْلُ الْعَرَجُ - فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلاَثٍ فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ أَنْ يَقْتَصَّ أَوْ يَعْفُوَ أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ فَإِنْ قَبِلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ النَّارُ خَالِدًا فِيهَا مُخَلَّدًا ».
3109 ۔ حضرت ابوشریح خزاعی (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص قتل ہوجائے یا اسے خبل لاحق ہو، (راوی کہتے ہیں ) خبل سے مراد عرج (یعنی لنگڑا ہوجانا) ہے۔ تو اسے تین میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا، اگر وہ کوئی چوتھی صورت چاہے تو اس کے ہاتھ پکڑ لو (وہ تین صورتیں یہ ہیں) وہ قصاص لے ، یا معاف کردے ، یا دیت وصول کرلے، اگر وہ ان میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرلے تو پھر اس کے بعد زیادتی کرے تو وہ جہنم میں جائے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔