hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3111

.

سنن الدارقطني

3111
Sunan Al Daraqutni
3111 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاَءً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ الْمَكِّىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَدِمَ عَلَيْنَا فِى الْمَوْسِمِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى كَثِيرٍ حَدَّثَنِى أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِى أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَكَّةَ قَامَ فِى النَّاسِ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِى وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِى سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ وَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِى فَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ يُخْتَلَى شَجَرُهَا وَلاَ تَحِلُّ سَقَطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ - أَوْ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ الشَّكُّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ - إِمَّا أَنْ يُودَى وَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ ». فَقَامَ الْعَبَّاسُ فَقَالَ إِلاَّ الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِى بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِلاَّ الإِذْخِرَ ». فَقَامَ أَبُو شَاهٍ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ - فَقَالَ اكْتُبُوا لِى يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اكْتُبُوا لأَبِى شَاهٍ » . قَالَ الْوَلِيدُ قُلْتُ لِلأَوْزَاعِىِّ مَا قَوْلُهُ اكْتُبُوا لِى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ هَذِهِ الْخُطْبَةُ الَّتِى سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
3111 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو آپ لوگوں کے دریان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا :
'' بیشک اللہ تعالیٰ نے مکہ میں ہاتھیوں کو داخل نہیں ہونے دیا، لیکن اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر تسلط عطاء کیا یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں تھا، اور میرے لیے بھی دن کے کسی ایک مخصوص حصے میں حلال قرار دیا گیا اور میرے بعد یہ کسی کے حلال نہیں ہوگا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جائے گا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جاسکتا ہے ، جس شخص کا کوئی عزیز قتل ہوجائے اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا، یا تو اسے دیت ادا کردی جائے یا (قصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کردیا جائے۔ تو حضرت عباس (رض) کھڑے ہوئے انھوں نے عرض کی یارسول اللہ : اذخر (نامی گھاس کاٹنے کی اجازت دیجئے) کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں ، تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اذکر (کاٹنے کی اجازت ہے ) ۔
ابوشاہ نامی ایک صاحب جو یمن سے تعلق رکھتے تھے ، انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! یہ مجھے لکھوادیں ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابوشاہ کو لکھ کردے دو۔
ولید نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے امام اوزاعی سے دریافت کیا : (حضرت ابوشاہ کے) اس جملہ سے مراد کیا ہے ؟ یہ مجھے لکھوادیں ! تو انھوں نے فرمایا : یعنی وہ خطبہ جو انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنا تھا۔