3121 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَارِسْتَانِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِى عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَبِى الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَهِىَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَىَّ فَدَعَا وَلِيَّهَا فَقَالَ « أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ مَا فِى بَطْنِهَا فَأْتِنِى بِهَا ». فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَشُدَّتْ - أَوْ شُكَّتْ - ثِيَابُهَا عَلَيْهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقِيلَ لَهُ رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّى عَلَيْهَا. فَقَالَ « وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا سَبْعُونَ مُذْنِبًا لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا ».
3121 ۔ حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی جو زنا کے نتیجہ میں حاملہ ہوگئی تھی ، اس نے عرض کی یارسول اللہ میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے ، آپ مجھ پر حد قائم کریں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سرپرست کو بلایا اور ہدایت کی : تم اس کا خیال رکھو جب یہ بچے کو جنم دے تو اسے میرے پاس لے آنا، اس شخص نے ایساہی کیا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت اس کے جسم پر لباس کو اچھی طرح باندھ دیا گیا پھرا سے سنگسار کردیا گیا۔ پھر نبی کریم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی پہلے آپ نے اسے سنگسار کردیا اور پھر اس کی نماز جنازہ بھی ادا کرلی ہے۔ نبی کریم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر 70 گناہ گار توبہ کرتے تو ان کے لیے کافی ہوتی، کیا تمہیں اس سے افضل کوئی شخص مل سکتا ہے ؟ جو اپنے آپ کو (اللہ کے حکم کی فرمان برداری میں) قربان کردے۔